Header Ads Widget

Ticker

6/recent/ticker-posts

سلسلہ واعظ و نصیحت

 *╭┄┅─══❁بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم❁══─┅•┄╮*

     *🤝​اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎​*  

 ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖



*سستی Laziness ایک ایسی تباہ کن چیز ہے* کہ یہ جسے لگ جائے تو وہ انسان کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتا،دنیا اور آخرت میں ناکام ہی رہتا ہے۔

دنیا کے کاموں میں جس شخص کو سستی کی عادت لگ گئی اس کی دنیاوی زندگی ناکام اور ،تباہ و برباد ھو گی۔ جس انسان میں سستی ہوگی وہ کسی کام کا نہیں رہے گا خواہ وہ مرد ہو یا خاتون۔

*اگر خاتون ہے* تو وہ گھر کے کام کاج اور والدین،بہن بھائیوں کی خدمت نہیں کرے گی بہانے بنائے گی اور پھر شادی کے بعد جب سسرال جائے گی تو وہاں اسی سستی کی وجہ سے بہت سے فسادات پیدا ہوں گے نتیجتاً اسے طلاق پڑے گی یا والدین کے گھر ہی بیٹھے گی۔

*اسی طرح جو مرد حضرات ہیں* اُنکی سستی کیوجہ سے گھریلو زندگی بے کار بن جاتی ھے بلکہ اُس کیوجہ سے گھر کے افراد کا چین و سکون ختم ہو جاتا ہے،سُست ترین انسان کوئی کام وقت پر نہیں کرتا وقت نکلتا جاتا ہے جسکی وجہ سے گھر میں اس کے ماں باپ بیوی بچے سب پریشان رہتے ہیں،تو دنیاوی زندگی میں بھی سستی ایک بہت بڑی تباہ کن چیز ہے اور آخرت کے لئے بھی بہت بڑی تباہی ہے۔


*سستی Laziness کا واحد علاج چستی Agility ہے اس کے لیے کوئی وظائف نہیں ہیں*

بلکہ اس کے لیے ہمت اور Struggle کرنی ہے اس کے لئے یہ عزم کرنا ہے کہ ہم سستی کو چھوڑ کر آخرت کے لئیے نیک اعمال کریں اور دنیا کی جائز ضروریات اور ذمہ داریوں میں بھی سُستی کے بجائے چُستی سے کام لیں ۔ہر جائز کام میں چُست Active بننے کی کوشش کریں۔

*مثلاً نیک اعمال کرنے میں شیطان آپ کو یہ دھوکہ دے گا* کہ بعد میں یہ نیکی کا کام کر لیں گے۔ بعد میں نماز پڑھ لیں گے بعد میں تلاوت کر لیں گے بعد میں نوافل پڑھ لیں گے،تو جب بھی ایسے خیالات آئیں تو آپ سمجھ جائیں کہ شیطان آپ کو دھوکا دے رہا ہے وہ وسوسہ ڈال رہا ہے کہ سستی کیوجہ سے نیک اعمال سے آپ محروم ہو جائیں اور اللہ نہ کرے وہ آپکی آخرت کو تباہ کرے۔

🍃قران سورہ آل عمران میں اللہ تعالی  فرماتے ہیں

*وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ ۔*

 ✍️ ترجمہ:-

 اپنے پروردگار کی مغفرت کی طرف جلدی سے دوڑو اور ایسی جنت کی طرف دوڑو جس کی چوڑائی سارے آسمان اور زمین کے برابر ہے۔


یعنی نیک اعمال میں جلدی کر کے اللہ کی طرف دوڑو، اللہ تعالی سے معافی مانگ کر توبہ کر کے اللہ سے تعلق بناؤ آج کا کام کل پر نہ چھوڑو یہ سب شیطانی وساوس ہیں جتنا جلدی ہو سکے اللہ سے توبہ کرو۔

*یہاں بھی دوڑنے سے صاف معلوم ھو رہا ھے کہ سُستی بالکل بھی اللہ تعالی کو پسند نہیں۔*


*عَنْ جَابِر بنِ عَبدِاللهِ رَضِیَ اللهُ عَنھما قَالَ*

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ


*قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ*

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا


*بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ الصَّالِحَةِ*

نیک اعمال میں جلدی کرو۔


(📚سُنن ابن ماجہ)


۔  ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

 مزید اچھے اچھے آرٹیکلز اور سبق آموز دلچسپ کہانی پڑھنے کے لیے ہمارے پیج کو فالو کرے اگر کوئی چیز اچھی لگے تو کمنٹ سیکشن میں ہمیں ضرور بتائیے اور ثواب کی نیت سے آگے بھی شیئر کریں تاکہ دوسرے بھی اس سبق سے استفادہ حاصل کرسکے جزاکاللہ 

      شکریہ

Post a Comment

0 Comments