روح کی
پرواز
Knowledgeworlddialy.blogspot.com
جب انسان کی
روح پرواز کرنے لگتی ہے تو اس کا منہ کھل جاتا ہے۔
ہونٹ کسی بھی قیمت
آپس میں نہیں ملتا۔ روح پیروں کی طرف سے نکالی جاتی ہے جب روح گردوں اور پھپڑوں تک
آتی ہے تو انسان کی سانس اک ہی طرف یعنی باہر کی طرف نکلتی ہے۔
یہی وہ وقت ہوتا
ہے جب انسان فرشتوں اور شیطان کو دُنیا میں اپنے سامنے دکھتا ہے ۔
ایک طرف
شیطان انسان کے کان میں شیطانی مشورے دیتا ہے
اور دوسری
طرف انسان کی زبان اس کے دنیاوی اعمال کے مطابق کُچھ الفاظ ادا کرتی ہے۔
اگر انسان نیک
اعمال کرتا رہا ہو تو اُس کی زبان کو کلمہ شہادت نصیب ہوتا ہے اور آگر گناہ گار ہو
تو کش مکش کا شکار ہو کر شیطان کی پیروی کر لیتا ہے۔
یہ سب اتنی تیزی
سے ہوتا ہے کہ دماغ کو سوچنے کا موقع نہیں ملتا۔
مومن کا روح ایسے
نکلتی ہے جسے آٹے سے بال نکلا جاتا ہیں۔
گناہ گار انسان
روح کے نکلتے وقت زبردست تکلیف محسوس کرتا ہے مگر تڑپ نہیں سکتا کیوں کہ اس وقت روح
اس کے حلق میں ہوتی ہے اس وقت انسان ایک گهوشت کے لوتھڑے کی طرح ہے جان پڑا ہوتا
ہے جس میں حرکت کی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔
پھر دماغ کے حصے
سے بھی روح نکال لی جاتی ہے۔
آنکھیں روح کو لے
جاتے دیکھتی ہیں یہی وجہ ہے کہ مردے کی آنکھیں کھلی ہو تو اوپر دیکھ رہی ہوتی ہے۔
یا جس سمت فرشتہ
روح قبض کر کے جاتا ہے اس سمت ہوتی ہیں۔
پھر موت کے بعد
کا اصل کھیل شروع ہوتا ہے۔۔۔
اللہ پاک
سی دعا ہے ہم سب کا آخری وقت آسان ہو اور مرتے وقت کلمہ شہادت نصیب ہو اور ہمیں شیطان کے شر سے محفوظ رکھے اور ہمیں اللہ کی عبادت کرتے رہنے کی توفیق عطا کرے ۔
آمین
اگر تحریر پسند
آئیں تو کمنٹ میں بتادے اور آگے اپنے دوستو ں میں شیر کرے اور مذید اچھے تحریر پڑھنے
کے لیے ہمارے ساتھ جڑے رہے شکریہ
0 Comments