Header Ads Widget

Ticker

6/recent/ticker-posts

گلگت بلتستان نہ فلسطینِ ثانی بنے گا نہ ہی کشمیر

 *گلگت بلتستان نہ فلسطینِ ثانی بنے گا نہ ہی کشمیر*


✍️ عارف بلتستانی




آٹھ نومبر کا دن تھا۔ یونیورسٹی سے واپسی پر اقبال کا جواب شکوہ پڑھ رہا تھا۔ (اگلا دن، یوم اقبال تھا۔)  اچانک دوست کی کال آئی۔ سلام و دعا کے بعد کہا ؛ "یار ہمارے کشمیری دوست کا آپریشن ہوا ہے۔ لہذا آپکو تیمار داری کےلئے جانا پڑے گا" کہا؛ "ٹھیک ہے تیار ہو کر آتا ہوں۔ آپ میری ٹکٹ اوکے کروا دیں۔" میں جلدی سے تیار ہو کے ریلوے اسٹیشن کی طرف چل پڑا۔ پہنچ کے دو منٹ نہیں ہوئے  تھے، کہ اچانک اعلان ہوا، ساڑھے پانچ بجے نکلنے والی ٹرین سات بجے نکلے گی۔ سوچا واپسی سے بہتر ہے ادھر ہی جواب شکوہ مکمل کر لونگا۔ ویٹنگ روم کی طرف گیا۔ جوں ہی دروازہ کھولا، میری نظر ٹی وی پر پڑی۔ ایک پروگرام چل رہا تھا۔ اسکا موضوع *"افکارِ اقبال کی روشنی میں کشمیر و فلسطین"* تھا۔ میں اسی حالت میں کرسی پر بیٹھ گیا۔ ویٹنگ روم میں ایک بزرگ ،ایک ہاتھ میں تسبیح اور دوسرے میں عصا لئے کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ دو مرد ایک نے فوجی، جبکہ دوسرے نے پولیس کی وردی زیب تن کی ہوئی تھی۔ دو خواتین  چادر میں ملبوس اور ایک نوجوان لڑکی بلیک سکارف پہننے، ہاتھ میں ناول کی ایک کتاب (پیر کامل) لئے  دونوں خواتین کے بغل میں بیٹھی ہوئی تھی۔ سب پروگرام دیکھنے میں مشغول تھے۔ پروگرام کے میزبان نے جلدی جلدی میں کہا؛" مہمانوں سے یہ میرا آخری سوال ہے، لیکن اسکا جواب صرف ایک جملے میں دینا ہے۔  سوال یہ ہے کہ  "آخر فلسطین پہ دشمن نے کس طرح قبضہ کیا؟ قبضہ کرنے کےلئے کونسی روش اختیار کی گئی؟" ایک مہمان نے بہت ہی سریع جواب دیا اور کہا؛ " تعلیم، زبان، معیشت" دوسرے مہمان نے کہا؛ آزادی، ثقافت، سیاحت " میزبان نے جواب سننے کے بعد اقبال کے کچھ اشعار پر پروگرام کا اختتام کیا۔


اور یہ اہل کلیسا کا نظام تعلیم 

ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف

 

تہذیب فرنگی ہے اگر مرگ امومت 

ہے حضرت انساں کے لیے اس کا ثمر موت 

 

جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نا زن 

کہتے ہیں اسی علم کو ارباب نظر موت 

 

 تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو 

ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے ، اسے پھیر 

 

تاثیر میں اکسیر سے بڑھ کر ہے یہ تیزاب 

سونے کا ہمالہ ہو تو مٹی کا ہے اک ڈھیر



پروگرام ختم ہونا تھا کہ بزرگ نے نحیف آواز میں کہا؛ "میزبان بہت ہی زیرک اور بابصیرت شخصیت تھی۔پاکستان کے آئندہ پچاس سال کو مدنظر رکھ کر موضوع کا انتخاب کیا تھا۔"  ہم سب کی نظریں بزرگ پر تھیں۔ اسی اثنا میں لڑکی نے پوچھا؛ "انکل! وہ کیسے؟" بزرگ ہماری طرف دیکھ کر کہنے لگے۔ پاکستان میں ایک ایسی جگہ ہے جو پاکستان کےلئے فلسطین اور کشمیر سے بھی زیادہ اہم ہے۔" ھماری حیرانگی میں اور بھی اضافہ ہوا۔ بزرگ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا؛ "وہ جگہ گلگت بلتستان ہے۔  اسکی اہمیت کی وجہ صرف کہساروں ، دریاوں، ندی نالوں، جھیلوں اور باغات کا قدرتی حُسن ہی نہیں بلکہ اس کے ماتھے کا جھومر اس کی دینی ثقافت ، دینداری اور پاکستان کے ساتھ وفاداری ہے۔ گلگت بلتستان، پاکستان کےلئے موتی کی مانند ہے۔ 


پہاڑی سلسلے چاروں طرف  اور بیچ میں ہم ہیں

مثال گوھر نایاب کہ ہم پتھر میں رہتے ہیں


ایک طرف سی پیک (CPK) کی وجہ سے بین الاقوامی سیاحوں کی توجہ کا مرکز اور پاکستان کی معیشت کی بہتری اسی میں ہے۔  تو دوسری طرف عالمی طاقتوں کا، قدرتی معدنیات و گرم پانی تک پہنچنے کا خواب۔ یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہاں کی ثقافت کو تبدیل نہ کیا جائے۔ لہٰذا دشمن اس کےلئے بہت   پہلے ہی سازش بن چکا ہے۔ اب اسکے نتائج بھی منظر عام پہ آنا شروع ہو گئےہیں۔ یوم آزادی کا کلچرل شو اسکا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بدقسمتی سے جسکا ذریعہ خود حساس ادارے اور نمایاں لوگ بن گئے۔ خواص کو ہوشیار رہنا چاہئیے۔"  جب بزرگ کے زبان سے "حساس ادارے اور نمایاں لوگ" کے الفاظ نکلے، اس وقت دونوں مرد کے چہرے سرخ ہو گئے اور سر جھک گئے۔ یہ حالت دیکھ کر میرے تجسس میں اور بھی اضافہ ہوا۔ آخر مجھ سے رہا نہ گیا۔ ان سے پوچھ ہی لیا۔ ایکسکیوز می سر!  آپ دونوں کی وردی سے لگ رہا ہے آفیسرز ہیں۔ لیکن آپ دونوں عوام کی طرح معمولی زندگی ۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا۔۔۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں ایسا کیوں ہے؟  


دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور ایک دوسرے کو اشارہ کیا۔ آخر میں آرمی لباس میں جو ملبوس تھا۔ انہوں نے کہا؛" "بیٹا میں سکینڈ لیفٹنینٹ جرنیل ہوں۔ کور کمانڈر گلگت کا عہدہ میرے ذمے ہے۔ ابھی ہی یہ عہدہ ملا ہے۔ پولیس وردی میں ملبوس شخص کی طرف دیکھا اور اسکی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا؛👈 "سر!  بلتستان ریجن کے آئی جی ہیں۔" بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا؛ "بیٹا آپ نے سوال کیا آفیسرز ہوتے ہوئے عوام کی طرح معمولی زندگی کیوں؟ اسکا جواب خدا نے اپنی لاریب کتاب میں دیا ہے۔ بتحقیق تمہارے لئے اللہ کے رسول رسول میں بہترین نمونہ ہے۔ جب انکی زندگی میں ہمارے لئے نمونہ عمل ہے، تو ہمیں بھی اپنی زندگی کو اسی کے مطابق گزارنا چاہئیے۔ ہم قوم کے خادم ہیں۔ عوام کی طرح ہی زندگی گزارنی چاہئیے۔ عوام کی طرح ہی سفر کرنا چاہئیے ، تاکہ پتہ چلے کس طرح کی مشکلات ہیں۔ بیت المال کا بھی خیال رکھنا چاہئیے۔ عوام کی طرح سفر کرنے کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ بیت المال کم سے کم خرچ ہو۔" 


بزرگ نے جرنیل کی بات کاٹتے ہوئے کہا؛ *"جب اسطرح کے دیندار، با ایمان اور محب وطن آفیسرز  موجود ہو تو گلگت بلتستان نہ فلسطینِ ثانی بنے گا نہ کشمیر۔"* 

کاش وہاں  کے خواص اور عوام بھی چند سکوں اور مال و زر کے عوض اپنی زمینوں کو غیروں کے ہاتھوں  نہ بیچیں۔ اپنی ناموس کو غیروں کے ہاتھ نہ دے دیں۔ کاش یہ لوگ فلسطین کی تاریخ پڑھ لیتے، کس طرح جوانوں کو برباد کر دیا، کیسے اپنی زمینوں کو چند سکوں کے عوض بیچ کے دشمن کو قبضہ کرنے موقع دیا۔ اگر معلوم ہوتا تو کبھی اسطرح کے کاموں کا سوچتے تک نہیں۔۔۔ کیا کرے مادیت۔۔۔آہ" بزرگ نے سر ہلاتے ہوئے خاموش ہوگئے۔ 


لڑکی نے سوال کیا اور کہا: ڈیڈ (DAD) کیا باقی آفیسرز آپ لوگوں کی طرح اچھے نہیں ہیں؟" چادر میں ملبوس خاتون نے جواب دیا اور کہا؛ " اگر ایسا ہوتا تو آزادی کے دن ثقافت کا جنازہ نہ نکلتا، آزادی کے نام پر عریانیت نہ پھیلائی جاتی، اعلی تعلیم کے نام پر سٹیج شو نہ کرواتے۔ ایسے فوجی آفیسرز جو دشمن کا آلہ کار بنیں، دین و وطن اور اخلاقیت کا پاسدار نہ ہوں، انکو نکال باھر کر دینا چاہئیے۔ ان جیسے ایک دو کی وجہ سے ساری پاک فوج پر دھبہ لگ جاتا ہے۔" غصے سے خاتون نے منہ پھیر لیا۔ میں نے لیفٹنینٹ جرنیل سے سوال کیا ۔ اس بارے میں آپکی کیا رائے ہے؟ تو انہوں نے کہا؛ "یہ کلچرل شو کے نام پر جو پروگرام رکھا گیا تھا، اسکی میں بھرپور مذمت کرتا ہوں۔ کسی صورت بھی دشمن کواس منطقے کی طرف ترچھی آنکھوں سے بھی دیکھنے کی اجازت نہیں دینی چاہئیے چہ جائے ایک آفیسر انکا آلہ کار بنے۔ ایک فوجی آفیسر لوگوں کی امنگوں کا ترجمان ہوا کرتا ہے۔ ایک فوجی آفیسر وطن کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں اور ناموس کی عزت کا محافظ ہوا کرتا ہے۔  آئندہ ایسی غلطیاں دہرانے سے ہوشیار رہنا چاہئیے۔ حساس اداروں کو بھی اور باقی تعلیمی مراکز کے ہیڈز کو بھی۔" آئی جی نے بھی سرہلاتے ہوئے جرنیل  کی  تائید کی اور کہا؛ " ہم سب کو مل کر اس ملک عزیز پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی حدود کی حفاظت کرنی چاہئیے۔ 


 لڑکی شاید مزید سوال کرنے کا ارادہ رکھتی تھی، لیکن اعلان ہوا سات بجے جانے والے مسافرین تیار ہوکے ٹرین کی طرف چلے۔ ٹرین میں سوار ہونے کےلئے ہم سب یہیں سے جدا ہو گئے۔  میں دوست کی عیادت کےلئے نکل پڑا۔ راستے میں جواب شکوہ مکمل کر لیا۔

Post a Comment

1 Comments